شیرونگی نارئی میں سیکیوریٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کے حملے کے جواب میں سیکیوریٹی فورسز نے دو شدت پسند ہلاک کر دئیے۔ کوٹ کئی میں سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں 1 اہلکار جان بحق اور 2 زخمی اور 7 شدت پسند ہلاک ہوئے۔ رزمک اور شکئی سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بھاری توپ خانے سے کارروائی جاری ہے جس میں متعدد ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے لدا کے مختلف علاقوں میں جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بھی شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جس میں شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانے تباہ ہونے اطلاعات ہیں۔جبکہ جنوبی وزیرستان کے علاقے کنی گرم، مومی کڑم اور سام کی جانب سیکیوریٹی فورسز کی پیش قدمی جاری ہے ۔ فورسز نے اب تک نوازکوٹ،شیرونگی, شنگواری سمیت شدت پسندوں کے دیگر مراکز کا خاتمہ کرکے علاقے کو کلئیر کردئیے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسندوں کے کئی بنکرزتباہ کرکے تورغنڈئی کے علاقہ کو محفوظ بنالیاگیاہے۔ اس علاقہ میں تیرہ دہشت گردوں کوہلاک کیاگیا۔میزووام کے علاقہ کومکمل طور پر محفوظ بنانے کے بعدسکیورٹی فورسز کی شیشموام کی طرف سے پیش قدمی جاری ہے۔شکئی لدھا کی جانب سے شیرونگئی میں سکیورٹی فورسز کنٹرول حاصل کررہی ہیں جبکہ اس مقام پر گرگراسر کو محفوظ بنالیا گیاہے۔شیرونگئی میں بویانارائی کے مقام پر شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیااورجوابی کارروائی میں گیارہ مارے گئے،ایک سیکیورٹی اہلکار جان بحق اور3زخمی ہوئے۔سکیورٹی فورسز نے توروام سے شیرونگئی تک سکیورٹی چیک پوسٹیں قائم کرلی ہیں۔آئی ایس پی آرکے مطابق سکیورٹی فورسز نے لدھا کے راستے کے اہم پل توروام کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیاہے۔ ترجمان کے مطابق رزمک میں سیکیورٹی فورسز اپنی پوزیشن مستحکم کررہی ہیں اس سلسلہ میں مکین کی طرف سے آنے والی سڑکوں کو بلاک کردیا گیاہے۔رزمک کیمپ پر شدت پسندوں نے گذشتہ رات6راکٹ فائر کئے جس سے ایک اہلکار جان بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔مالاکنڈ میں جاری آپریشن راہ راست میں ایک کارروائی کے دوران بانپورسرکے مقام پر اہم کمانڈراقبال عرف اسلام کو ہلاک کردیا گیاہے جبکہ سکیورٹی فورسزنے بھاری مقدارمیں اسلحہ بھی برآمدکیاہے۔سوات کے مختلف علاقوں سے9شدت پسندگرفتارجبکہ2شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے۔کبل میں مخبر کی اطلاع پر کارروائی میں60 مارٹرگولے برآمدکرلیے گئے ہیں۔ ڈی پی اور چارسدہ محمد ریاض خان کے مطابق تحصیل شبقدر کے علاقے کندرے میں شدت پسندوں کے موجودگی کے اطلاع پر پولیس اور سی آئی ڈی پشاور کے اہلکاروں نے مشترکہ کارروائی کے دوران تین کمانڈروں سمیت 6 شدت پسندوں کو اسلحے سمیت گرفتار کرلیا۔ ڈی پی او کے مطابق دو گھنٹے تک جاری فائرنگ کے تبادلے میں مقامی قبائل نے پولیس کا بھرپور ساتھ دیا۔ گرفتار ہونے والے تمام شدت پسندوں کا تعلق سوات اور شانگلہ سے ہے جن میں سوات کے علاقے درشخیلہ کے کمانڈر عمر واحد ، مراد علی اور شانگلہ کے شدت پسند کمانڈر محمد امین بھی شامل ہیں۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 170039
چھ غیرملکی جنگجؤوں سمیت سو سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں۔